29 Apr 2021

MA English Part.1 Poem The Ariel Urdu Translation

 

Ariel

By Sylvia Plath

 

Stasis in darkness.

Then the substanceless blue   

Pour of tor and distances.

اندھیرے میں سکوت ہے اور پھر بے وجود نیلے رنگ کی روشنی پہاڑ اور فاصلے  عیاں ہوتے چلے جاتے ہیں( اس نظم میں ایک عورت اپنی  پریگنینسی کے احساسات کو شاعری کی زبان میں بیان کرنے کی کوشش کر رہی ہے   سپرم کا یہ سفر عورت کے رحم میں اندھیرے میں  شروع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ روشنی یعنی زندگی کی طرف رواں دواں ہوتا ہے)

 

God’s lioness,   

How one we grow,

Pivot of heels and knees!—The furrow

اے میرے ایریل گھوڑے تُم خدا کی شیرنی ہو ہم ایک جسم کی ماند ہیں ہم ایک کھیتی کی طرح ہیں جس میں بوئی ہوئی فصل ہی آگے بڑھتی ہے

Splits and passes, sister to   

The brown arc

Of the neck I cannot catch,

( ماں کے رحم کے اندر نشونما پانے والا بچہ  اپنی ماں کے وجود کا ہی ایک حصہ ہے اُسی خوراک پر پل رہا ہوتا ہے جو خوراک اُس کی  ماں کی ہوتی ہے پھر ایک پراسس ہوتا ہے اور زندگی سے ایک نئی زندگی جنم لیتی ہے

Nigger-eye   

Berries cast dark   

Hooks—

جب ایک گھڑ سوار اپنے گھوڑے پر رات کی تاریکی میں محو سفر ہوتا ہے تو  اُسے کسی حبشی کی سیاہ آنکھوں کی طرح یہ تاریکی  چمکدار محسوس ہوتی ہے اور اسی چمک میں شاعرہ کو  سیاہ رنگ کی سٹرابری نظر آتی ہے جس  کو بچے اپنے کانٹوں کے ذریعہ اُتارتے ہیں

Black sweet blood mouthfuls,   

Shadows.

Something else

اس میٹھے رس کے احساس سے اُس کے مُنہ میں پانی بھر آتا ہے ان راستوں پر چلتے چلتے کُچھ شاخیں ناخنوں کی طرح اُس کے چہرے کو زخمی کر دیتی ہیں

Hauls me through air—

Thighs, hair;

Flakes from my heels.

کوئی غیر مرئی مخلوق اسے اُپر درخت کی جانب اُٹھا لیتی ہے شاعرہ کا پورا جسم اُپر اُٹھ جاتا ہے اس کے جسم پر پڑے ہوئے برف کے سفید گالے اس کی ایڑیوں سے نیچے گرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں

White

Godiva, I unpeel—

Dead hands, dead stringencies.

شاعرہ  گودیوا دیوی کو پُکارتی  ہے اور اپنے سُن ہاتھوں سے اپنے سُن احساسات کو دبانے کی کوشش کرتی ہے

And now I

Foam to wheat, a glitter of seas.   

The child’s cry

وہ محسوس کرتی ہے کہ اس کے جسم سے کوئی جھاگ نما چیز خارج ہو رہی ہے جسم سے نکلنے والی یہ صدا جیسے سامنے تاریکی کی دیوار میں گُم ہو جاتی ہے

Melts in the wall.   

And I

Am the arrow,

وہ اپنے آپ کو کمان سے نکلا ہوا ایک تیر سمجھتی ہے یا وہ شبنم جو درخت کے پتوں سے گر کے زمین میں

The dew that flies

Suicidal, at one with the drive   

Into the red

Eye, the cauldron of morning.

جذب ہو جاتی ہےاُس کا گُھڑ سواری کا یہ انداز اپنے اندر خود کُشی کا انداز لیے ہوئے ہے یہ دردِ زہ اس کے لیے کسی مشقت سے کم نہیں ہے

 


No comments:

Post a comment