19 Oct 2019

BA English,FA English,CSS English Translation Passages from Urdu to English



 BA English | FA English | CSS English Famous Translation Passages


بدر کے مقام پر مسلمانوں اور قریش کے درمیان ایک زبردست لڑائی ہوئی جسے قرآن مجید میں "فیصلہ کا دن "کہا گیا۔ اس لیے کہ اِس دِن حق و باطل  کے درمیان قطعی   فیصلہ ہوگیا۔ مسلمان تین سوسے  کُچھ زیادہ  اور قریش ایک ہزار سے کم نہ تھے۔ پھر مسلمانوں کے پاس جنگ کا سامان بھی بہت کم تھا۔ قریش  کے پاس نہ دولت  کی  کمی نہ سازوسامان کی  کمی تھی سب سے بڑی بات  یہ تھی کہ مسلمان لڑائی کے لیے تیار ہو کر نہ آئے تھے ۔ بدر کا معرکہ دُنیا کی تاریخ میں بڑی سے بڑی جنگ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
A great battle was fought between Muslims and Quraish at Badr, which has been named as "Day of Decision” in the Holy Quran because on that day a decisive battle took place between right and wrong. Muslims were slightly over three hundred in number and Quraish were not less than a thousand. Besides, Muslims have very equipment for war. Quraish lacked neither wealth nor instruments. The more important thing was that Muslims had not come prepared for the battle. The Battle of Badr is more important than the biggest wars in the history of world.


جولوگ  کام نہیں کرتے وہ ہر وقت قسمت کو کوستے رہتے ہیں ۔ ان کا خیال  ہے کہ بنا ہاتھ پیر ہلائے خزانہ اِن کے باتھ آجائے گا ۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو کام تو کرتے ہیں  لیکن ان کی سوچ منفی ہوتی ہے ۔ وہ اپنے لئےبھی اور دوسروں کے لئے بھی مُصیبت کا باعث بنتے ہیں ۔ ہاں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف تعمیری  کام میں یقین رکھتے ہیں۔اِن پرقوموں کا انحصار ہوتا ہے۔
Those who shirk work always   curse their fate. They are of the view that they would get treasure without doing any work. There are some people who do the work but their thinking is negative. They not only cause havoc for themselves but also for the others. Yet there are some who believe only in constructive activities. The nations depend on such people.

آدمی اپنی قسمت خود بناتا ہے اس کو چاہیے کہ محنت کرے اورلگن سے کام کرے تا کہ وہ اپنی  زندگی میں کا میابی حاصل کر سکے ۔ محنت اس دنیا کی سب سب سے بڑی حقیقت ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ اگر ہم ماضی  پر نظر دوڑایئں  تو معلوم ہو گا   کہ جتنے بھی عظیم آدمی گزرے ہیں  اُن سب نے محنت سے کام کیا اور اپنی قسمت سنواری۔کُچھ لوگ کام نہیں کرتے اور جب ناکام ہوتے ہیں تو قسمت کو سنے لگتے ہیں۔ خدا  بھی ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد خود کرتے ہیں
Man is the architect of his own fate. He should work hard with devotion so that he may achieve success in his life. Hard-work is the biggest reality of the world which cannot be falsified. If we have a look at our past, we will realize that all the great men of the world, worked hard and made their fate. Some people do not work and when they meet failure, they start blaming their fate. God also helps those who help themselves.


دنیا میں ایسے آدمی بہت کم ہوتے ہیں جن کے سامنے کوئی بُلند مقصد ہو اور وہ اس کی خاطر اپنی جان تک قربان کر دیں ۔ ایسے ہی آدمیوں سے قوموں کی تاریخ بنتی ہے۔ ٹیپو سلطان شہید کا شمار ایسے ہی انسانوں میں ہوتا ہے ۔ اور  وہ کہا کرتے تھے  کہ "شیر کی زندگی کا ایک دن  گیدڑ کی زندگی کے ایک سو سال سے بہتر ہے" یہ بات بلکل درست ہے انسان کے لئے یہی لازم ہے کہ شیر کی طرح زندگی بسر کرے اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے اور ملک کے دُشمن کے سامنے چٹان کی طرح جم جائے۔
There are a few such persons in the world who lay down their lives for the lofty aim they have. Such men make the history of nations. Tipu Sultan, the martyr, is one of them. He used to say "One day life of lion is better than hundred years of the life of a Jackal." This proverb is hundred percent correct. One must live like a lion, not to be afraid of anyone except God and face steadily the enemy of one's country.

ہندوستان میں مغلوں کی سلطنت دنیا کی چھ بڑی بادشاہتوں میں گنی جاتی ہے ۔ اتنے وسیع اور زرخیز علاقے میں انتہائی جاہ و جلال کے ساتھ اپنا سکہ چلانے کا موقع بہت کم  خاندانوں کو ملا ۔ایسی  شاندار  یادگار یں میں بہت کم بادشاہوں نے چھوڑی  جیسا کہ دہلی کا لال قلعہ دیوانِ خاص اور دیوانِ عام یا آگرے کا تاج محل اور موتی مسجد یا لاہور اور کشمیر کے شاندار باغات
Mughal ؑEmpire in India is numerated among six largest kingdoms of the world. A few dynasties got opportunity to rule over such a vast and fertile area with grandeur as Mughals did. There are a few emperors, who left behind such glorious monuments as Lal Qila  of Delhi, Diwan-e-Aam, Diwan-e-Khas, Taj Mahal in Agra and Moti Masjid  and excellent Gardens of Lahore and Kashmir.


No comments:

Post a Comment